آج صبح میں اپنی بائک پہ دفتر جا رہا تھا کہ یک لخت خون کے چھینٹےمیرے جسم پہ آکے پڑے ۔ مِں نے بھت حیران ہو کر بائک روکی اور کپڑوں کی جانب دیکھا تو جابجا سرخ چھینٹے پڑنے سے خراب ہو چکے تھے۔ مجھے سخت حیرانگی ہوئی کہ یہ خون کہاں سے آیا۔ اتنے میں سامنے نظر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ویگن میں سوار ایک صاحب پان چباتے جا رہےہیں اور وقتاِ فوقتا ویگن کے شیشے سے سر باہر نکال کر بیرونی دنیا کو پان کی ہولناکی اور رنگولی کا مشاہدہ بھی کروا رہے ہیں۔ وہ صاحب کچھ وقفہ کے بعد سر باہر نکالتے اور پان کی باریک پچکاری بغیر ادھر ادھر دیکھے اپنی دانست میں زمین پہ پھینک رہےتھے جبکہ ویگن کے تیز رفتار ہونے کی وجہ سے انکے اگال کے چھینٹے ہوا میں بکھر سڑک پر آنے والے مجھ جیسے کئی لوگوں کے کپڑوں پر پڑ رہے تھے۔
اپنے کپڑوں کا یہ حشر دیکھ کر غصہ تو بہت آیا لیکن اس سے زیادہ غصہ اس بات پر آرہا تھا کہ بحیثیت قوم ہم کتنے بےحس ہو چکے ہیں۔کہ اردگرد کے لوگوں کا کوئی خیال ہی نہیں رہا۔
یقینا یہ صاحب اپنے دوستوں کی محفل میں یہ بھی کہتے ہوں گے کہ جناب ہماری حکومت بےکار ہے جدھر دیکھو گندگی کے ڈھیر ہیں اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔
میںبہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دوستوں کی محافل میں اکثر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جناب ہماری حکومت کا کوئی حال نہیں جو حکومت صفائی کا نظام بہتر نہیں کر سکتی اسکو چلے جانا چاہیے۔ جبکہ عام روزمرہ زندگی میں وہی صاحب صفائی کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئےفالتو چیزوں کو کوڑے کے ڈرم کی بجائے سڑکوں اور پارکوں میں پھینکتے نظر آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا کوئی زمہ نہیں بنتا۔ یا ہمارا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جا بجا گندگی پھیلاتے رہیں اور حکومت سے یہ توقع رکھیں کہ وہ اسکو بروقت صاف کرتی رہے؟
سوچنے کی التجا کے ساتھ
ندیم رزاق کھوہارا
اپنے کپڑوں کا یہ حشر دیکھ کر غصہ تو بہت آیا لیکن اس سے زیادہ غصہ اس بات پر آرہا تھا کہ بحیثیت قوم ہم کتنے بےحس ہو چکے ہیں۔کہ اردگرد کے لوگوں کا کوئی خیال ہی نہیں رہا۔
یقینا یہ صاحب اپنے دوستوں کی محفل میں یہ بھی کہتے ہوں گے کہ جناب ہماری حکومت بےکار ہے جدھر دیکھو گندگی کے ڈھیر ہیں اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔
میںبہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دوستوں کی محافل میں اکثر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جناب ہماری حکومت کا کوئی حال نہیں جو حکومت صفائی کا نظام بہتر نہیں کر سکتی اسکو چلے جانا چاہیے۔ جبکہ عام روزمرہ زندگی میں وہی صاحب صفائی کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئےفالتو چیزوں کو کوڑے کے ڈرم کی بجائے سڑکوں اور پارکوں میں پھینکتے نظر آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا کوئی زمہ نہیں بنتا۔ یا ہمارا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جا بجا گندگی پھیلاتے رہیں اور حکومت سے یہ توقع رکھیں کہ وہ اسکو بروقت صاف کرتی رہے؟
سوچنے کی التجا کے ساتھ
ندیم رزاق کھوہارا
No comments:
Post a Comment