ڈاکٹر عبدالقدیر بلاشبہ پاکستان کے قومی ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں۔پاکستان کے اس مایہ ناز سپوت نے اپنی انتھک محنت اور ہم عصر سائنسدانوں کے ساتھ مل کر خدا کی خاص رحمت سے وطن عزیز پاکستان کو ایٹم بم کا ایک ایسا تحفہ دیا جس پر پاکستان کے دشمن آج بھی حیران و پریشان ہیں کہ اپنی طاقت کے زور پر انہوں نے ملک عزیز پر قبضہ کرنے کے جو خواب دیکھے تھے وہ دھرے کے دھرے رہ گئے۔
بلاشبہ یہ رحمت خداوندی اور ہمارے اس عظیم ہیرو کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج دشمن ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔
لیکن ہمارے اس عظیم ہیرو کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ کسی درد مند پاکستانی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
اپنے دوستوں کے ساتھ جب بھی اس موضوع پر بات ہوئی سب پاکستانی حکومت کی اس ستم ظریفی پر اسکو اپنی مفید گالیوں اور لعن طعن سے نوازتے رہتے ہیں۔
میں اس بات پر کوئی بحث نہیں کروں گا کہ ہمارے اس قومی ہیرو کے ساتھ ایسا سلوک کیونکر کیا گیا اور کس کے کہنے پر کیا گیا ۔
البتہ میں آپ لوگوں کی توجہ ہماری اپنی بے حسی کی جانب دلانا چاہوں گا۔کہ حکومت تو جو کر رہی ہے سو کر رہی ہے ہم بہ حیثیت قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔
میرا اشارہ اردو شاعری میں ایک مقبول نام احمد فراز کی جانب ہے۔
آپ میں سے اکثر دوستوں کو شاید احمد فراز کے قومی ہیرو کہنے پر اعتراز ہو لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور اردو زبان کے اس نامور شاعر کو پاکستان کے نو اعلی ترین ایوارڈز کے ساتھ ساتھ چھ بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جو اسکی ناموری اور شہرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس ہیرو کے ساتھ کیسا سلوک برتا۔شعروشاعری کے اس جگمگاتے چراغ کو موبائل ایس ایم ایس میں انتہائی گھٹیا اور بے ہودہ قسم کے شعروں کے ساتھ یوں نتھی کیا جاتا ہےجیسے فراز کوئی شاعر نہیں بلکہ بے ہودہ شعر کہنے والا انسان ہے۔
کیا ہم اپنے ہیرو کے ساتھ صحیح سلوک کر رہے ہیں۔ کیا یہی طریقہ ہے اسکو خراج تحسین دینے کا۔
اگر ہم ایک ہیرو کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم دوسروں کی اپنے قومی ہیروز کے ساتھ ناانصافی پر احتجاج کریں۔
کسی دوسرے پر نقطہ چینی کرنے کی بجائے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔
آئیے یہ عہد کریں کہ ہم آج سے ایسے ایس ایم ایس کا نہ صرف خودبائیکاٹ کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔
یاد رکھیے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا پھر ہی ہم نظام کو بدلنے کی بات کر سکتے ہیں۔
ایک آخری بات مجھے کوئی فراز کا دیوانہ سمجھ کر اس بات کو نظر انداز مت کیجیے گاا
ایک بار غور ضرور کریں
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میرے بات
آپکا اپنا
ندیم کھوہارا
ایک پاکستانی
Thursday, January 14, 2010
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment